بیجنگ: وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں منعقدہ دوسری بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد، احترام اور تعاون پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ صدر شی جن پنگ کے 2015 کے اسلام آباد دورے نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بنیاد رکھی، جس کے تحت چین نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان میں توانائی کے بحران کو حل کرنے اور زراعت و صنعت کو بحال کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور کان کنی جیسے شعبوں میں ترقی کی راہیں ہموار کر رہا ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز چینی سرمایہ کاروں کے لیے اہم سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں، جہاں انہیں سستی لیبر اور دیگر سہولتیں میسر ہوں گی۔
وزیراعظم نے سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا اور چینی سرمایہ کاروں کی حفاظت کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور چینی سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ چین کی ترقی پاکستان کے لیے رول ماڈل ہے اور چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر اپنی عسکری برتری بھی ظاہر کر چکا ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا موقع ہے۔




