پاکستان

سیلاب کی  شدیدتباہ کاری، بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑنے سے پاکستان کے جنوبی و وسطی علاقے متاثر

لاہور، ملتان، سکھر: بھارت کی طرف سے دریاؤں میں اچانک اضافی پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی کے باعث کئی حفاظتی بند ٹوٹ گئے، درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

منڈی بہاؤالدین میں دو نوجوان سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے جبکہ ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 1312 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ شجاع آباد کے علاقے شیر شاہ کے قریب بستی گاگرہ کا حفاظتی بند ٹوٹ جانے سے 200 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں سیلابی پانی قریبی بستیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

ملتان کی بستی گرے والا میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ دریائے چناب کے شورکوٹ مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں سے سلطان باہو پل سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک کا پانی گزر رہا ہے۔ تریموں بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے قریبی آبادیاں شدید خطرے میں ہیں۔

دریائے سندھ کے سیلابی ریلے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں تک پہنچ چکے ہیں۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 57 ہزار 196 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 37 ہزار 746 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوریا ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرِ آب آنا شروع ہو گئے ہیں۔

چنیوٹ، خانیوال، احمد پور سیال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم کئی مقامات پر پانی کی شدت کے باعث پہنچنا مشکل ہو چکا ہے۔ چنیوٹ کے ٹھٹھہ ہشمت اور موضع ڈوم میں جاری آپریشن کے دوران 25 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

محکمہ آبپاشی اور محکمہ موسمیات  نے کئی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دریائے راوی کے قطب شہانہ مقام پر 1 لاکھ 31 ہزار 500 کیوسک کا پانی گزر رہا ہے، جس کی باعث مزید تباہی کا امکان ہے۔

جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں کپاس، گنا، مکئی اور سبزیوں کی فصلیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس سے کاشتکار شدید مالی نقصان کا شکار ہو گئے ہیں۔ زرعی ماہرین نے فوری تخمینہ لگانے اور متاثرہ کاشتکاروں کو معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے فوری انخلاء کریں اور ہنگامی صورتحال میں 1122 یا مقامی ریسکیو ہیلپ لائنز پر  فوری  طور پر رابطہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button