لاہور: یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ اور معروف صنعتکار رہنما ایس ایم تنویر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی نہ کرنے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کے باوجود شرح سود کو 11 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھنا معیشت، کاروبار اور روزگار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے بیان میں ایس ایم تنویر نے کہا کہ موجودہ اقتصادی حالات کے تناظر میں کاروباری برادری کو توقع تھی کہ اسٹیٹ بینک کم از کم 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا، لیکن ایسا نہ ہونا کاروباری طبقے کے اعتماد کو مزید کمزور کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ تین سال سے جاری معاشی جمود کے بعد معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں، مگر بلند شرح سود صنعتی شعبے کی بحالی اور نئی سرمایہ کاری کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی شرح سود (Real Interest Rate) خطے میں بلند ترین سطح پر ہے، جو کہ صنعت و تجارت کے لیے غیر مستحکم ماحول پیدا کر رہی ہے۔
ایس ایم تنویر نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ سے اپیل کی کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کریں اور پالیسی ریٹ کو فوری طور پر 6 سے 9 فیصد کے درمیان لانے کا فیصلہ کریں تاکہ صنعتی پیداوار، برآمدات، روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر شرح سود میں بروقت کمی نہ کی گئی تو سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متزلزل ہوگا، جس کا اثر براہِ راست معاشی بحالی کے عمل پر پڑے گا۔ اس وقت جب مہنگائی 3 فیصد تک آ چکی ہے، تو 11 فیصد شرح سود کسی طور پر عقلی یا معاشی طور پر جائز نہیں۔




