اسلام آبا د : پاکستان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے "گلوبل صمود فلوٹیلا” پر کیے گئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے اس واقعے کو "بزدلانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں پر حملہ ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزیرِاعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ”صمود فلوٹیلا پر 44 ممالک کے انسانی ہمدرد کارکن سوار تھے، جنہیں اسرائیلی فوج نے یرغمال بنا لیا ہے۔ ان افراد کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے لیے خوراک اور ادویات لے کر جا رہے تھے۔”انہوں نے تمام یرغمال افراد کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ "یہ ظالمانہ کارروائی بند ہونی چاہیے، اور امن کے قیام کو موقع دیا جانا چاہیے۔ انسانی ہمدردی کی امداد ہر حال میں ضرورت مندوں تک پہنچنی چاہیے۔”
واضح رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا پر حملہ کیا تھا، جس میں 40 سے زائد کشتیوں پر سوار 500 کے قریب کارکن شامل تھے۔ اس کارروائی میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد دنیا بھر میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے نمائندگان اسرائیل سے کارروائی روکنے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔




