بین الاقوامی
Trending

ٹرمپ کا بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنے کا عندیہ، طالبان کا دوٹوک مؤقف ۔۔۔ مذاکرات کی پیشکش برقرار

واشنگٹن :سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بگرام ایئربیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکا کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بگرام ایئربیس چین کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے، اور امریکا اسے پرامن طریقے سے دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد طالبان حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان قوم نے ہمیشہ غیر ملکی افواج کی موجودگی کو مسترد کیا ہے اور دوحہ معاہدے میں بھی ایسی کسی واپسی کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ تاہم طالبان نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امریکا مذاکرات کا خواہاں ہے تو دروازے کھلے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی دفاعی حکام نے ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بگرام ایئربیس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن، ہزاروں اہلکاروں، جدید دفاعی نظام اور بھاری مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت ایسی کوئی منصوبہ بندی زیر غور نہیں۔

افغان تجزیہ کار ذاکر جلالی نے صدر ٹرمپ کو ایک زیرک مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر سیاسی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے چاہئیں، خواہ امریکی فوجی موجودگی نہ بھی ہو۔

بگرام ایئربیس، جو افغانستان میں امریکی افواج کا سب سے بڑا فوجی مرکز رہا ہے، امریکی انخلا کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔ اس بیس پر ماضی میں امریکی فوجیوں کے لیے سہولیات، فاسٹ فوڈ چینز، تجارتی مراکز اور ایک جیل کمپلیکس بھی موجود تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکی سیاست اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے تناظر میں دیے گئے ہیں، اور اس سے افغانستان میں ایک نئی سرد مہری یا ممکنہ کشیدگی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button