اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اور کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کو دہشتگردوں کی حمایت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ کچھ عناصر خیبرپختونخوا میں امن کے قیام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جبکہ دہشتگردوں کی پشت پناہی بلیک اکانومی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی تھی، لیکن وہ نہیں آئے۔ آج بھی وہ جیل میں بیٹھ کر دہشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔”
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نعرہ "خان نہیں تو پاکستان نہیں” شخصی پوجا کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی، پی ٹی آئی کا "عسکری ونگ” بن چکی ہے، اور خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردوں سے گٹھ جوڑ قابل تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے ہر فورم پر دہشتگردوں کی حمایت کی۔خیبرپختونخوا میں اسمگلنگ اور غیر دستاویزی کاروبار دہشتگردوں کی مالی معاونت کا ذریعہ ہیں۔تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور کئی گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ پاک فوج اور شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، اور ان کے خلاف سیاست یا بیانیہ بنانا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فتنہ خان” اپنی سیاست کے لیے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، مگر ریاست ایسا ہونے نہیں دے گی۔
وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردوں اور ان کے سیاسی سہولت کاروں کو مسترد کریں۔ "اب وقت ہے فیصلہ کرنے کا: آپ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ؟”




