پاکستان
Trending

فلسطینی جنگ بندی کا جشن منارہے ہیں، یہاں ہتھیار کیوں اٹھائے گئے؟، وزرا کا سوال

 

اسلام آباد : پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ احتجاج کے پس پردہ حقائق بیان کیے، اور واضح کیا کہ ریاست نے پرتشدد مظاہرین سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کا ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن جب مطالبات غیرقانونی اور ناقابل قبول حد تک جا پہنچے، تو قانون حرکت میں آیا۔
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف شریک تھے۔ تینوں وزرا نے واقعات کی تفصیلات ایک مربوط انداز میں بیان کیں اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ ٹی ایل پی کے ساتھ آخری لمحے تک رابطہ رہا، لیکن وہ ہر بار ایک نیا مطالبہ لے کر آئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ غزہ میں جب امن معاہدہ ہوا، تو فلسطینی عوام نے خوشی منائی۔ "مگر یہاں، جب پوری دنیا امن کے پیغام کی طرف جا رہی تھی، ایک مذہبی جماعت نے مسلح ہوکر سڑکوں پر آنا مناسب سمجھا۔ان کے بقول، دنیا بھر میں غزہ کے لیے احتجاج ہوا، مگر کہیں گملہ نہیں ٹوٹا، جبکہ پاکستان میں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ سراسر ضد ہے، اور ضد کبھی بھی کسی مثبت انجام تک نہیں لے جاتی۔
محسن نقوی نے بتایا کہ احتجاج شروع ہونے سے لے کر آخری وقت تک ٹی ایل پی کے مرکزی رہنما حکومتی ٹیم کے ساتھ رابطے میں رہے۔ ان کے مطابق ڈھائی بجے رات تک وہ ہمارے ساتھ بیٹھے تھے۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ پُرامن طریقے سے واپس چلے جائیں لیکن، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ بعض ایسے افراد کو رہا کیا جائے جو قانون کے مطابق دہشتگردی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ فلسطین میں جنگ بندی ہو چکی ہے، اور پاکستان کو وہاں ثالثی اور سفارتی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنے پر سراہا گیا ہے۔ان کے بقول "اب وقت ہے کہ ہم اتحاد کا مظاہرہ کریں، نہ کہ اندرونی انتشار کو ہوا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کسی مسجد، مدرسے یا عالم دین کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی، صرف ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو پرتشدد کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے جمعے کے خطبوں میں علما سے فلسطینی امن پر شکرانے کی اپیل بھی کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button