کاروبار
Trending

نظام کی بہتری اور ٹیکس اصلاحات کیلئے کاروباری وسعت ناگزیر ہے: ایس ایم تنویر

 

اسلام آباد: یونائیٹڈ بزنس گروپ کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نکالنے کیلئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو 10 گنا تک بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب توانائی مہنگی ہو چکی ہے، کاروباری طبقے کو سولر انرجی جیسے سستے متبادل تلاش کرنا ہوں گے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور مسابقت میں اضافہ ہو۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ معاشی ترقی کے بغیر نہ ٹیکس نیٹ بڑھ سکتا ہے، نہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کاروبار جتنا بڑھے گا، اتنا ہی ملک کا ریونیو بڑھے گا اور عوام کیلئے سہولیات ممکن ہو سکیں گی۔

انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرکاری اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 3.2 ٹریلین روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن نظامی کمزوریاں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کیلئے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔

ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سطح پر قدرتی وسائل موجود ہیں، لیکن پھر بھی ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سسٹم میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ہمارے پاس مائنز، معدنیات، تیل اور دیگر ذخائر موجود ہیں تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس کیوں جانا پڑتا ہے؟

انہوں نے انتظامی بنیادوں پر اصلاحات کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بڑے صوبے گورننس کیلئے موزوں نہیں، لہٰذا ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ ’’بھارت میں 1947 کے 9 صوبے آج 30 سے زائد ہو چکے ہیں، لیکن ہم آج بھی چار صوبوں کے ساتھ 25 کروڑ عوام کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

آخر میں انہوں نے ملکی دفاع پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج دشمن کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے، لیکن ملک کی معاشی خودمختاری کیلئے عوام اور کاروباری طبقے کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button