لاہور: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وزارتوں کے سرکاری فنڈز کے حصے بانٹنے پر تنازعہ اور لڑائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق نئی کابینہ کی تشکیل سے قبل اہم وزارتوں کے لیے بولیاں لگائی جا رہی ہیں، جس سے شفافیت اور دیانت داری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر کہا کہ جو لوگ پیسے دے کر وزارت حاصل کریں گے، ان سے دیانت داری کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ انہوں نے سابقہ کرپشن اسکینڈلز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 40 ارب روپے کے کوہستان منصوبے میں بدعنوانی اس طرز حکمرانی کی واضح نشانی ہے۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صرف ایک سال میں 80 ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور کسی ایک منصوبے پر کرپشن یا بے ضابطگی کے الزامات سامنے نہیں آئے۔




