لندن :برطانیہ نے امیگریشن قوانین میں نصف صدی کے بعد سب سے بڑی اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے سخت قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ نئے نظام کے مطابق، غیر قانونی تارکینِ وطن اور سرکاری فوائد پر انحصار کرنے والے افراد کو 20 سے 30 سال انتظار کے بعد ہی مستقل رہائش مل سکے گی۔
دوسری جانب وہ افراد جو معاشی طور پر ملک میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، اعلیٰ ٹیکس دیتے ہیں یا خصوصی مہارت رکھتے ہیں، صرف 3 سے 5 سال میں رہائش حاصل کر سکیں گے۔ این ایچ ایس کے ڈاکٹرز اور نرسز کے لیے یہ مدت 5 سال رکھی گئی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ انگریزی زبان کی مہارت، کمیونٹی میں شمولیت اور قومی انشورنس کنٹریبیوشن جیسی عوامل انتظار کی مدت کو مزید کم کر سکتے ہیں۔
ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے اس موقع پر کہاملک میں مستقل رہائش کوئی حق نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے، جسے کردار، معاشی کردار اور سماجی شمولیت کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے۔
حکام کے مطابق یہ نیا نظام 2021 کے بعد برطانیہ میں داخل ہونے والے تقریباً 20 لاکھ افراد پر لاگو ہوگا، جبکہ پہلے سے سیٹل اسٹیٹس رکھنے والے متاثر نہیں ہوں گے۔ مستقبل میں، پبلک فنڈز صرف برطانوی شہریوں کے لیے دستیاب ہوں گے، یعنی سیٹلمنٹ کے بعد بھی خودکار طور پر فوائد نہیں ملیں گے۔




