پاکستان

ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے ،اس کے سامنے ترقی کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا ، میاں عامر محمود

کراچی : پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان ایک وقت میں اس خطے کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا، لیکن بدقسمتی سے اس ترقی کا تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آج پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اور اس کے سامنے ترقی کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔

ایپ سپ کے زیر اہتمام ” 2030کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں” کے موضوع پر اقراء یونیورسٹی کراچی میں منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا، "پاکستان بنے ہوئے 79 سال ہو گئے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے اور آگے بڑھے۔ گزشتہ سالوں میں پاکستان نے بہت کچھ حاصل کیا، مگر آج پاکستان اس خطے کا ایک کم ترقی کرتا ملک بن چکا ہے۔”

میاں عامر محمود نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک بن چکا ہے اور ترقی کی رفتار بہت کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم دینے پر اتنی توجہ نہیں دی۔ آج پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں بچے سکول سے باہر ہوں۔”

پاکستان کی فیڈریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا، "پاکستان ایک فیڈریشن ہے، اور ہم دنیا کی واحد فیڈریشن ہیں جس کا ایک صوبہ باقی تین صوبوں سے زیادہ آبادی رکھتا ہے۔ پنجاب پاکستان کا 52 فیصد ہے، لیکن ہم نے اپنے صوبوں کو اتنی زیادہ یکطرفہ قوت دے رکھی ہے کہ ایک صوبہ باقی تین صوبوں کو ملا کر بھی بڑا ہے۔”

میاں عامر محمود نے بلوچستان کے مسئلے پر بھی گفتگو کی اور کہا، "بلوچستان کا رقبہ پاکستان کے نصف کے برابر ہے، لیکن اس کی آبادی کراچی سے بھی کم ہے۔ بلوچستان کا اتنا بڑا رقبہ ہے کہ حکومت اسے صرف کوئٹہ میں بیٹھ کر کنٹرول نہیں کر سکتی۔ ہم نے بلوچستان کو اے اور بی ایریاز میں تقسیم کر کے رکھا ہوا ہے اور اب تک اس بڑے علاقے کو کنٹرول نہیں کر سکے۔”

میان عامر نے ملک کے مسائل کے حل کے لیے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور صوبوں کے درمیان عدم توازن کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ میاں عامر محمود نے کہا، "ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ ملک کہاں کھڑا ہے اور ہمیں اپنے فیصلوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button