کراچی : ایپ سپ کے زیر اہتمام ملک گیر آگاہی مہم "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں” کے سلسلے میں اقراء یونیورسٹی کراچی میں ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے مستقبل، چیلنجز اور ترقی کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے ایپ سپ کے چیئرمین، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے پاکستان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی سمت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا، "پاکستان کو بنے 79 سال ہو گئے ہیں، اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ اگر سمت درست ہو تو گاڑی منزل تک پہنچ ہی جاتی ہے۔” انہوں نے ملک کو درپیش مسائل کو دو اہم اقسام میں تقسیم کیا: انفرادی اور اجتماعی مسائل۔ ان کے مطابق انفرادی مسائل میں لوگوں کے کردار کا فقدان ہے، جب کہ اجتماعی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ "آج کے دور میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں معاملات کا مشاہدہ کرکے انہیں درست کرنا ہے، اور اس کے لیے صرف ایک رول ماڈل کی ضرورت ہے۔” انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر عالمی رہنماؤں کا ذکر کیا، لیکن سب سے زیادہ اہمیت نبی اکرم ﷺ کے رول ماڈل کو دی۔ انہوں نے کہا کہ "نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ نبی پاک ﷺ نے مدینہ کی فلاحی ریاست بنائی، اور اگر ہم ان کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہم بہترین انسان بن سکتے ہیں۔”
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے پاکستان کی ترقی کے لیے صحیح سمت کے تعین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "سب کو مل کر سوچنا ہوگا کہ ملک کس سمت میں جا رہا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ "پاکستان کی سمت اگر درست ہوگی تو ہم اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔”
سیمینار کے دوران پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے میاں عامر محمود کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "میں میاں عامر محمود کو قوم کا ہیرو مانتا ہوں۔” انہوں نے بتایا کہ میاں عامر محمود نے 450 کالجز قائم کیے ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، اور انہوں نے پاکستان کو 4 شاندار یونیورسٹیاں فراہم کی ہیں۔ "میاں عامر سے زیادہ اہمیت کا حامل کوئی شخص نہیں تھا جو ہمارا ہیرو بنے۔”
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے مزید کہا، "ہمیں اپنے کردار پر محنت کرنا ہوگی۔ لوگ راتوں رات امیر بننے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ڈگریاں سب کے پاس ہوتی ہیں، کام کرنے والا بندہ مشکل سے ملتا ہے۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں کردار سازی پر کام کر رہی ہیں، اور ہمیں بھی اپنے کردار پر محنت کرنا ہوگی تاکہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔”
آخر میں، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے ملک کی گورننس ماڈل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنے ایڈمنسٹریٹو یونٹس چھوٹے کرنے پڑیں گے تاکہ وسائل نیچے تک منتقل ہو سکیں، اور حکومت کے مختلف سطحوں پر اصلاحات لائی جا سکیں۔”




