کیلیفورنیا: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماہر اور "اے آئی کے گاڈ فادر” کہلانے والے جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی دنیا بھر میں کئی ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
ہنٹن نے کہا کہ خاص طور پر کال سینٹرز، کسٹمر سروس، انتظامی امور اور دیگر دفتری ملازمتیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی کیونکہ خودکاری کے بڑھتے ہوئے استعمال سے انسانی محنت کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر بڑے ٹیکنالوجی ادارے صرف منافع کے لیے اے آئی کو اپنائیں تو انسانی وسائل کا تحفظ مشکل ہو جائے گا۔ ہنٹن نے حکومتوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو اس انداز سے منظم کریں کہ انسانی بہبود اور سماجی انصاف بھی برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق، پہلے ہی کئی کمپنیوں میں عملے کی تعداد کم کی جا رہی ہے، اور یہ رجحان مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے انسانی محنت اور سماجی و اقتصادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔




