ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات میں ‘بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی’ (بی این پی) کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ تاریخی فتح نے ملک میں سیاسی بے یقینی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ تاہم، نو منتخب قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دم توڑتی ہوئی گارمنٹس انڈسٹری کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کرنا ہے، جو مسلسل چھ ماہ سے گرتی ہوئی برآمدات اور امریکی ٹیرف کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔فروری 2026 کے ان انتخابات نے بنگلہ دیشی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی مہر ثبت کر دی ہے۔
طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے پارلیمنٹ کی 300 میں سے 209 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ جماعت اسلامی ایک مضبوط اتحادی اور بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ عوامی لیگ کی عدم موجودگی نے انتخابی میدان کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔
یہ بنگلہ دیش کی تاریخ کا وہ پہلا الیکشن تھا جہاں دونوں روایتی حریف خواتین منظرنامے سے غائب تھیں، جس نے نئی نسل کی قیادت کے لیے راستہ صاف کیا۔بنگلہ دیش کی معیشت کا 10 فیصد اور برآمدات کا 80 فیصد گارمنٹس انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ نئی حکومت کو درج ذیل سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کو ‘زیرو ٹیرف’ کی سہولت صرف اس صورت میں ملے گی جب وہ امریکی کپاس (Cotton) استعمال کرے گا۔ ماہرین اسے ایک مشکل شرط قرار دے رہے ہیں کیونکہ بنگلہ دیش کا سپلائی چین فی الحال چین اور بھارت پر منحصر ہے۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
طارق رحمان اور ان کے معاشی مشیروں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ معیشت کو صرف گارمنٹس تک محدود نہیں رکھیں گے۔ بی این پی نے وعدہ کیا ہے کہ چمڑے (Leather)، ادویات (Pharmaceuticals) اور ایگری پروسیسنگ کے شعبوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ گارمنٹس پر بوجھ کم ہو۔
بینکنگ سیکٹر میں موجود کرپشن کا خاتمہ اور سرمایہ کاروں کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جولائی 2024 کی بغاوت کے بعد سے بے چین گارمنٹس ورکرز کے لیے منصفانہ اجرت کا نفاذ تاکہ صنعت میں ہڑتالوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
عالمی برانڈز اور سرمایہ کار بنگلہ دیش میں استحکام کے منتظر ہیں۔ موڈیز (Moody’s) جیسی ریٹنگ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ بی این پی کی فتح سے سیاسی استحکام تو آ سکتا ہے، لیکن معاشی بہتری کا دارومدار اس بات پر ہے کہ نئی حکومت امریکہ اور انڈیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو کس طرح متوازن رکھتی ہے۔بنگلہ دیش کے لیے یہ الیکشن محض اقتدار کی تبدیلی نہیں، بلکہ اس کی معاشی شہ رگ کو بچانے کا آخری موقع ہے۔ 40 لاکھ گارمنٹس ورکرز، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ طارق رحمان کی حکومت ان کے چولہے جلانے کے لیے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔




