اسلام آباد :سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک پُراعتماد اور جارحانہ خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی دفاعی و سفارتی پالیسی کا نیا رخ واضح کر دیا۔ اجلاس کا آغاز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وطن کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا۔
صدر زرداری نے اپنے نویں پارلیمانی خطاب میں 2025 کو ملکی تاریخ کا اہم ترین موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر تاریخی کامیابیاں سمیٹیں۔ صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہماری افواج نے بھارتی حملے کو تزویراتی فتح میں بدل کر ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔
26 فروری کو طالبان رجیم کی دراندازی پر کیے گئے فیصلے کن ردِعمل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ریاست کے لیے اپنی سرزمین پر حملے قبول نہیں۔بھارتی قیادت کی جنگجویانہ بیان بازی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے صدر نے کہا "تنگ نظر بھارتی رہنما ایک اور جنگ کی تیاری کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن جارح کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ کی صورت میں اسے ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امن کا واحد راستہ مذاکرات کی میز ہے۔
صدر نے ‘فتنہ الخوارج’، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین مقدس ہے اور کسی کو اسے غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے افغانی دہشت گردوں کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔
صدر زرداری نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ شہدا کے خاندانوں کے لیے وہی درد محسوس کرتے ہیں جو انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر کیا تھا۔ انہوں نے ریاست کے اس عزم کو دہرایا کہ شہدا کے لواحقین کی عزت اور وقار کے ساتھ کفالت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔




