جارجیا: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو تاریخی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی عارضی حل کے بجائے اب صرف ایک مکمل اور "جامع معاہدے” پر ہی اتفاق کرے گا۔یونیورسٹی آف جارجیا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی (49 برسوں) میں پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان اتنے اعلیٰ سطح کے براہِ راست رابطے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی چھوٹی یا عارضی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتے، بلکہ وہ ایک ایسی "عظیم ڈیل” چاہتے ہیں جو ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مستقل دور رکھے اور عالمی امن کے لیے سودمند ہو۔ نائب صدر کے مطابق، اگرچہ دہائیوں کا عدم اعتماد ختم ہونے میں وقت لگے گا، لیکن ایرانی مذاکرات کار اب مذاکرات میں سنجیدگی دکھا رہے ہیں۔اپنے حالیہ دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ہونے والی پیش رفت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید کام درکار ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت فریقین کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے اور خطے کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایک جامع معاہدے کے نتیجے میں ایران پر لگی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں، جس سے ایرانی عوام کے لیے عالمی معیشت کے دروازے کھل جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ اس عمل کو "نیک نیتی” کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے تاکہ دنیا کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔




