اسلام آباد : وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ملک میں بجلی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ دو ہفتوں کا بحران خالصتاً تکنیکی اور عالمی سپلائی چین کے مسائل سے جڑا ہوا تھا، جس کا حل نکال لیا گیا ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ عالمی سطح پر جاری جنگی حالات کی وجہ سے ایل این جی (LNG) کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو ضرورت کے مطابق گیس میسر نہیں تھی، جس کی وجہ سے عارضی طور پر لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔
انہوں نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ لوڈشیڈنگ کسی کوتاہی یا پیداواری صلاحیت کی کمی کی وجہ سے ہو رہی تھی۔
اویس لغاری نے ایک اہم معاشی نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے پاس ڈیزل اور فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس کا آپشن موجود تھا، لیکن ان سے پیدا ہونے والی بجلی انتہائی مہنگی پڑتی ہے جس کا بوجھ براہِ راست صارفین پر پڑنا تھا۔ ہم نے عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کے لیے گیس کی آمد کا انتظار کیا۔
وزیر توانائی نے تصدیق کی کہ گزشتہ روز ایل این جی کی کھیپ موصول ہوتے ہی تمام گیس پاور پلانٹس پوری صلاحیت کے ساتھ چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملک بھر میں پانچ پانچ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اب ختم ہو چکا ہے۔
حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ایندھن کی فراہمی کے لیے متبادل ذرائع کو مزید مستحکم بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔




