اسلام آباد/نئی دہلی: پاکستان کی جانب سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوتوں کی عالمی تشہیر نے مودی سرکار کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بے نقاب ہونے کے بعد، بھارت نے حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے سینسر شپ کا سہارا لیتے ہوئے آئی ایس پی آر سمیت درجنوں پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یکم مئی 2025 کو اٹھایا گیا یہ قدم دراصل ان انکشافات کا نتیجہ ہے جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے 29 اور 30 اپریل کو اپنی پریس بریفنگ میں کیے تھے۔ ان انکشافات میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے تھے۔ بھارتی حکومت نے ان حقائق کا مدلل جواب دینے کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بند کرنا زیادہ آسان سمجھا۔
مودی حکومت نے صرف آئی ایس پی آر ہی نہیں، بلکہ ان تمام آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے جو بھارت کے نام نہاد "امن پسند” چہرے کے پیچھے چھپی دہشت گردی کو دنیا کو دکھا رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق، یوٹیوب چینلز کی بلاکنگ کا مقصد بھارتی عوام کو پہلگام فالس فلیگ کی شرمندگی اور حقیقت سے لاعلم رکھنا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست کی جانب سے معلومات کے ذرائع کو بلاک کرنا اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی اور سفارتی محاذ پر شکست کھا چکی ہے۔
پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار جتنی چاہے پابندیاں لگا لے، پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت عالمی برادری تک پہنچ چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے چینل کو بلاک کرنا بھارتی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت اب سچائی کا سامنا کرنے کی سکت کھو چکا ہے۔




