اسلام آباد :وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت اب افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے کیونکہ اس میں پاکستان سے براہِ راست ٹکرانے کی جرات ختم ہو چکی ہے۔
خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ طالبان حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پندرہ پندرہ گھنٹے طویل مذاکرات کیے گئے، مگر کابل انتظامیہ کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام زبانی طور پر تو اقرار کرتے ہیں لیکن جب تحریری یقین دہانی کی بات آئے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ کابل حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے تیار نہیں۔
وزیر دفاع نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ماضی کے برعکس اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایک طویل عرصے تک ہمیں صوبائی سطح پر وہ تعاون میسر نہیں تھا جو اب مل رہا ہے، جو کہ ملکی سلامتی کے لیے خوش آئند ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔




