اسلام آباد:پاکستان کا آئندہ مالیاتی بجٹ ایک بار پھر عام آدمی کے لیے خوشخبری کے بجائے معاشی جبر کا پیغام لاتا دکھائی دے رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے سامنے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی روایتی ہتھیار ڈالنے کی پالیسی کے نتیجے میں، نئے بجٹ میں 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں کا بوجھ عوام کی پیٹھ پر لادنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔
17 ہزار ارب روپے کے متوقع حجم والے اس بجٹ کا کلیدی ہدف جون 2027 تک 15 ہزار 267 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ہدف کی قربانی ہمیشہ کی طرح صرف غریب اور متوسط طبقہ ہی دے گا۔
آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت حکومت پٹرول اور ڈیزل پر سبسڈیز کا نام و نشان مٹانے جا رہی ہے۔ پٹرولیم لیوی کا ہدف 1727 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو رواں سال سے 260 ارب روپے زیادہ ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ایندھن اور توانائی کی قیمتیں ملکی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیں گی، جس کا اثر ہر چھوٹی بڑی چیز کی قیمت پر پڑے گا۔ اس پر مستزاد، جی ایس ٹی (GST) کی مد میں اضافی 2 ہزار ارب روپے کا ہدف عام صارف کی کمر توڑنے کے لیے کافی ہے۔
ایف بی آر نے اپنے ہدف کو پورا کرنے کے لیے 430 ارب روپے کا جو پلان بنایا ہے، اس میں سے 215 ارب روپے براہِ راست نئے ٹیکسوں کی صورت میں عوام کی جیب سے نکالے جائیں گے، جبکہ باقی رقم آڈٹ اور سخت مہم کے ذریعے وصول ہوگی۔ یہی نہیں، صوبائی حکومتیں بھی مرکز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عوام پر مزید 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس تھوپنے کو تیار بیٹھی ہیں۔
اس پورے بجٹ پلان کا سب سے شرمناک پہلو ٹیکس وصولی کا عدم توازن ہے۔ ملکی معیشت میں 25 فیصد حصہ رکھنے والا زرعی شعبہ مجموعی ٹیکس کا صرف 0.3 فیصد دیتا ہے۔ بااثر وڈیروں، جاگیرداروں اور ریئل اسٹیٹ کے بڑوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے، حکومت کا پورا زور پہلے سے نچوڑے ہوئے تنخواہ دار طبقے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر پر ہے۔
ملک میں مہنگائی پہلے ہی ڈبل ڈیجٹ (Double Digit) میں ہے، جہاں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی خواب بن چکی ہے۔ اگر حکومت نے متبادل شعبوں سے ٹیکس لینے کے بجائے یہی پالیسی برقرار رکھی، تو آئندہ مالی سال ملک میں شدید معاشی اور سماجی اضطراب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔




