واشنگٹن : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ڈیڈ لاک اب ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے لیے حالات انتہائی سازگار نہیں رہیں گے، اور یہ معاہدہ خود ایران کی بقا اور مفاد کے لیے ضروری ہے۔
امریکی صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کی کامیابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کوئی معاہدہ ہو پائے گا یا نہیں، صورتحال بالکل مبہم ہے۔”
اس دوران انہوں نے ایران کو سب سے سخت وارننگ آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی، جہاں سے دنیا بھر کے تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ اس سٹریٹجک گزرگاہ پر ایران کے رویے کی وجہ سے اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، جس کے بعد مبصرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں خطہ کسی بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔




