تہران: ایران اور امریکہ کے مابین طویل عرصے سے جاری سرد جنگ کو ختم کرنے اور ایک بڑے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے خلیجی سفارت کاری اچانک متحرک ہو گئی ہے۔ قطر کا ایک اعلیٰ ترین سفارتی وفد انتہائی اہم اور حساس مشن کے ساتھ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ چکا ہے۔
ایرانی میڈیا ہاؤسز کی رپورٹوں کے مطابق، تہران پہنچنے والے اس وفد کی کمان قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کے خصوصی مشیر کر رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں قطری وزیراعظم کے مشیر کے اس اچانک دورے کو "برف پگھلنے کی حتمی کوشش” قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری وفد تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ اور قومی سکیورٹی کونسل کے حکام کے ساتھ بند کمرہ ملاقاتیں کرے گا۔
بین الاقوامی برادری اس دورے کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ قطر کی ماضی کی ثالثی ہمیشہ کامیاب رہی ہے اور اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور معاشی منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔




