کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔
قومی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف مکمل طور پر یکسو ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز مشکل حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کو درپیش چیلنج ہے، اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکی شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے اور متعدد منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کی ترجیح عوامی مسائل کا حل، بہتر گورننس اور سروس ڈیلیوری میں بہتری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف ریاستی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ صوبے میں امن، ترقی اور عوامی فلاح کے اقدامات بھی بیک وقت جاری رکھے جائیں گے۔




