تہران: اسرائیل نے ایران پر تازہ حملے کر دیئے جس کے بعد ایران نے بھی بھرپور جوابی وار کئے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ وسطی ایران میں میزائل سائٹس پر حملے کررہے ہیں، ایران نے بھی بھر پور جوابی وار کرتے ہوئے اسرائیل کے متعدد مقامات پر تازہ حملے کئے، حیفہ میں ایرانی میزائل حملے سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔
اسرائیل کے حملوں میں تل ابیب میں بھی متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا جس میں 15افراد زخمی ہوگئے، ایران نے اسرائیل کے بن گورین ایئر پورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے، ایک میزائل وزیراعظم نیتن یاہو کے آبائی گھر پر گرا۔
ایرانی حملوں میں 14 اسرائیلی ہلاک، 380 سے زائد زخمی، 35لا پتہ
واضح رہے ایرانی حملوں میں 14 اسرائیلی ہلاک، 380 سے زائد زخمی اور 35لا پتہ ہوگئے تھے، ایرانی حملوں سے تل ابیب،یروشلم،حیفہ ،ایلات اور بیت یام میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، درجنوں عمارتیں ملیا میٹ ہوگئیں، متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
اسرائیلی حکومت کی ملک بھر میں ہنگامی حالت میں 30 جون تک توسیع
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی صورتحال میں 30 جون تک توسیع کر دی، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تل ابیب میں تباہ حال علاقوں کا دورہ کیا۔
سربراہ ایرانی فوج امیر حاتمی
سربراہ ایرانی فوج امیر حاتمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی آباد کار مقبوضہ علاقے خالی کر دیں، دشمن کے خلاف ہر اقدام قومی سلامتی کیلئے اٹھایا جا رہا ہے۔
اسرائیل کا حملہ: پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف محمد کاظمی اور نائب شہید
اسرائیل کے تہران پر حملے میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف محمد کاظمی اور ان کے نائب جنرل حسن محقق شہید ہوگئے۔
پاسداران انقلاب نے شہادتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ جنرل محسن باقری بھی اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں، واضح رہے کہ جنرل کاظمی کو 2022ء میں ایرانی سپاہ پاسداران کا انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا تھا۔
ایرانی حکام نے ان شہادتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی سلامتی اور خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے، پاسدران انقلاب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت کے حمایتی یہ جان لیں کہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اور ہدف شدہ کارروائیاں اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔
اسرائیلی حملوں میں اب تک 224 افراد شہید ہوئے: ایرانی وزارت صحت
دوسری جانب ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 224 افراد شہید ہوئے، حملوں میں شہید ہونے والوں میں 90 فیصد عام شہری ہیں،شہدا میں 14 ایٹمی سائنسدان اور 20 فوجی کمانڈرز بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے ایرانی وزارت داخلہ اور تہران کے اہم اضلاع پر میزائل حملے کئے گئے دو بڑے اسرائیلی پروجیکٹائل نے تہران کے وسطی علاقے کو نشانہ بنایا، جس سے مین واٹر پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا تھاکہ اسرائیل نے تہران میں وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر سمیت 40 اہداف کو نشانہ بنایا، ایران کے پاس خطرناک ہتھیار ہیں جو اسرائیل کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، ایران پر حملے جاری رہیں گے، خامنہ ای ہمارا نشانہ ہیں۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے شہید رہنماؤں کی تدفین منسوخ کر دی، شہید رہنماؤں کی تدفین منگل کے روز ہونا تھی۔
یمنی حوثیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل برسا دیے
ادھر یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائلوں سے دوسرا بڑا حملہ کیا جس کی تصدیق اسرائیل نے بھی کر دی ہے۔
حوثی رہنماؤں نے کہا کہ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل پر میزائل برسا رہے ہیں، حوثی رہنماؤں نے زور دیا کہ ہم صرف اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، اسرائیل نے تصدیق کی کہ اس بار صرف ایران سے میزائل نہیں آ رہے بلکہ یمن سے بھی حملے ہو رہے ہیں اور یہ یمن سے حملوں کی دوسری لہر ہے۔
اس سے پہلے حوثیوں نے منگل کے روز اسرائیل پر میزائل برسائے تھے جو اسرائیل کی جانب سے یمنی بندرگاہ کو نشانہ بنانے کا جواب تھا۔
اسرائیل کی امریکا سے براہ راست ایران پر حملوں میں شامل ہونے کی درخواست
اسرائیل نے ایران کے بھرپور ردعمل سے گھبرا کر امریکہ سے براہ راست ایران پر حملوں میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے جسے امریکہ نے رد کر دیا ہے۔
امریکہ نے یوکرین سے میزائل دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کر دیئے
ادھر امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لیے یوکرین سے بعض میزائل دفاعی نظام مشرق وسطی منتقل کر دیے، امریکی وزیر دفاع نے میزائل دفاعی نظام کی منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں اپنے (اسرائیلی) لوگوں کو بچانے کے لیے تمام تر وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یوکرین بھیجے جانے والے 20ہزار میزائل مشرق وسطی بھیج دیئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائلر ہوئی ہے جس میں اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے میڈیا ونگ کے ترجمان ایرانی حملوں سے خوفزدہ ہو کر خوف سے کانپتے نظر آ رہے ہیں۔
ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے سے الگ ہونے کی دھمکی
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں خط جمع کرا دیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مغربی پابندیوں کے جواب میں ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گا، ایرانی مندوب سعید ایروانی کے مطابق برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے پابندیاں لگانے کی کوشش کی تو اقدام کریں گے۔




