پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کا سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کیس: ڈائریکٹر ماحولیات ذاتی حیثیت میں طلب

 

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کو روکنے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈائریکٹر ماحولیات کو 4 جولائی کو طلب کیا ہے، اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق، اظہر صدیق اور دیگر شہریوں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ ادارے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔

دورانِ سماعت واسا کے سینئر لیگل ایڈوائزر میاں عرفان اکرم، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ، ماحولیاتی کمیشن کے ممبران اور دیگر محکموں کے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

محکمہ ماحولیات کے لاء افسر نے عدالت میں عملدرآمد رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 11 انسپکشن ٹیمیں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کے لیے تشکیل دی جا چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ کی نئی فورس کے 75 اہلکار وہیکل ایمیشن ٹیسٹنگ ٹیموں کی صورت میں 21 مقامات پر تعینات ہیں، جبکہ 15 موبائل اسکواڈز شہر میں متحرک ہیں۔

تاہم، جسٹس شاہد کریم نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نئی فورس کے اہلکار صرف بوتھوں میں بیٹھ کر چیکنگ نہ کریں، بلکہ دھواں چھوڑنے والی بڑی کمرشل گاڑیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی کریں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ محکمہ ماحولیات کی ٹیمیں کمرشل گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کر رہیں۔ محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر لیگل محمد نواز مالک عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

عدالت نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی کہ وہ ماحولیاتی کمیشن سے مشاورت کے بعد رپورٹ تیار کرے اور آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرے۔ کیس کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button