پاکستان

ناکارہ سرکاری پاور پلانٹس کا ملبہ 46.73 ارب روپے میں فروخت، قومی خزانے کو سالانہ اربوں کی بچت

اسلام آباد :وفاقی حکومت کی ہدایت پر پرانے اور ناکارہ سرکاری پاور جنریشن پلانٹس کے ملبے کی فروخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کے نقصان سے بچا لیا گیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، کل 61 ناکارہ پاور پلانٹس کے ملبے کی ریزرو پرائس 45.817 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، جب کہ یہ ملبہ مجموعی طور پر 46.73 ارب روپے میں کامیابی سے فروخت کر دیا گیا ہے۔

اس عمل کو دو مراحل میں مکمل کیا گیا:
پہلا مرحلہ:

پہلے مرحلے میں 31 پلانٹس کے ملبے کی ریزرو پرائس 7.593 ارب روپے تھی، جس کے مقابلے میں 8.475 ارب روپے میں فروخت کی گئی۔ کامیاب بولی دہندگان سے معاہدات مکمل ہو چکے ہیں۔
دوسرا مرحلہ:

دوسرے مرحلے میں 30 پلانٹس کے ملبے کی ریزرو پرائس 38.224 ارب روپے مقرر کی گئی، جبکہ حتمی فروخت 38.255 ارب روپے میں کی گئی۔ اس مرحلے کے معاہدات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔

فروخت ہونے والے تھرمل پاور پلانٹس میں جامشورو بلاک I & II، گدو II، سکھر، کوئٹہ، مظفرگڑھ بلاک I & II اور فیصل آباد شامل ہیں۔

متعلقہ پاور پلانٹس کے ملازمین کو برطرف کرنے کے بجائے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی مہارت سے استفادہ جاری رکھا جا سکے۔
شفاف عمل

ملبے کی قیمت کا تعین اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ماہرین نے کیا، جس سے شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا گیا۔

حکومت کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مالی بچت کا باعث بنا ہے بلکہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button