مشہور مصنفہ اور شاعرہ کشور ناہید نے یوم آزادی کے موقع پر پاکستان کی تاریخ اور اس کے قیام کی جدوجہد کو جذباتی الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ایسا خواب تھا جسے جذبے، قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کے ذریعے حقیقت میں بدلا گیا۔
کشور ناہید نے بتایا کہ آزادی کے وقت ملک بھر میں حالات انتہائی نازک تھے، خاص طور پر ٹرینوں میں موجود نوجوان لڑکیوں کو گرفتار کر کے لے جایا جاتا تھا اور لڑکوں پر تشدد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹرین کراچی کی طرف جاتی تھی جبکہ دوسری لاہور کی، جو اس وقت کے حالات کی عکاسی کرتی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آنے والے مہاجرین کو جہاں پناہ ملتی تھی وہیں وہ نیا آغاز کرتے تھے۔ سرکاری ملازمین نے بھی بتایا کہ ان کے پاس کام کرنے کے لیے نہ کرسی تھی نہ میز، اور وہ زمین پر بیٹھ کر کاغذات پر کام کرتے تھے۔ کاغذات کو جوڑنے کے لیے پن کی جگہ کانٹے استعمال کیے جاتے تھے۔
کشور ناہید نے ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں اور محنت سے پاکستان کی بنیاد رکھی، اور کہا کہ یہی عظیم داستان آج بھی ہمارے لیے فخر اور رہنمائی کا سبب ہے۔




