لاہور: دریائے راوی میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اور خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں شاہدرہ اور بلوکی کے علاقوں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شاہدرہ کے متعدد آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث مقامی انتظامیہ نے فوری ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں سائفن شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار 627 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ شاہدرہ کے مقام پر یہ بہاؤ 2 لاکھ 15 ہزار 550 کیوسک تک پہنچ چکا ہے جو انتہائی خطرناک سیلاب کی سطح ہے۔
سیلاب کے باعث فرخ آباد، عزیز کالونی اور دیگر قریبی علاقوں کے رہائشی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے فوری طور پر ان علاقوں سے لوگوں کو گھروں سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ مساجد کے ذریعے بھی اعلانات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
سیلاب متاثرین کے لیے فرخ آباد میں دو سکولوں میں امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں متاثرہ افراد کو کھانے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ملتان روڈ پر چوہنگ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی زیر آب آ چکی ہے، جہاں رہائشی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انتظامیہ نے بتایا ہے کہ دریا کے کنارے بند کے ایک حصے پر ابھی بھی کئی شہری اپنے مال مویشیوں کے ساتھ موجود ہیں جو امداد کے منتظر ہیں۔ ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہیں اور ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر قریبی امدادی کیمپ یا ریسکیو سروسز سے رابطہ کریں۔




