کوہاٹ امن معاہدہ ضلع کرم میں دیر پا امن کے حصول کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ کرم کے دلیر عوام، مقامی عمائدین اور انتظامیہ نے شرپسند عناصر کے عزائم کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ علاقے میں امن و خوشحالی کی نئی راہیں بھی کھولیں۔
نومبر 2024 میں پارہ چنار جانے والے 200 سے زائد گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 49 شہری اور تاجر جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی دوران شرپسند عناصر نے بگن بازار پر حملہ کر کے بازار میں شدید تباہی مچا دی تھی۔ تاہم حکومتی انتظامیہ، علاقائی عمائدین اور سیکیورٹی اداروں نے بروقت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کرم میں امن کے قیام کے لیے جرگوں اور ملاقاتوں کا آغاز کیا۔
کوہاٹ امن معاہدے کی کامیاب عملداری
کوہاٹ امن معاہدہ نے کرم میں پائیدار ترقی کا آغاز کیا اور تنازعات سے متاثر علاقے میں ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس معاہدے کے تحت 997 بنکرز کو مسمار کیا جا چکا ہے اور عوام و مقامی عمائدین کے تعاون سے 547 بڑے ہتھیاروں کی واپسی بھی کامیابی سے مکمل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ٹل اور پارہ چنار روڈ کو شرپسندوں سے محفوظ بنانے کے لیے 120 سے زائد خصوصی پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔
کرم کی ترقی کا سفر
کرم میں آزادانہ نقل و حرکت اور تجارت کے فروغ کے لیے خصوصی سیکیورٹی فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ کرم پولیس اور خصوصی فورس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کرم میں نوجوانوں کے لیے سپورٹس گراؤنڈ کی تعمیر اور مختلف علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس اور سولرائزیشن منصوبوں کی تکمیل بھی یقینی بنائی گئی ہے۔
کرم کی ترقی کا سفر
بگن بازار میں 102 نئی دکانوں کی تعمیر کر کے چابیاں دکانداروں کے حوالے کی گئیں، جس سے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملے۔
11 اگست 2025 کو پارہ چنار کے مشران کی دعوت پر لوئر کرم کے عمائدین نے مشترکہ جرگے میں شرکت کی، جہاں مقامی مشران نے کرم میں دیر پا امن کے قیام کے لیے اپنے عزم کو دہرایا۔
۔ سابق سینیٹر سجاد میاں نے کہا:
"ہمیں چاہیے کہ ہر بات پر حکومت کے ساتھ بیٹھیں تاکہ ہم کرم کی ترقی اور امن کے لیے ایک مضبوط قدم اٹھا سکیں۔”
کرم کی ترقی کا سفر
کرم کے عوام، مقامی عمائدین اور انتظامیہ کی کوششوں سے علاقے میں امن اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ ان کی مسلسل محنت اور تعاون کے باعث کرم کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کرم تجارت، باہمی برداشت اور سیاحت کا عظیم مرکز بنے گا، جہاں کے لوگ امن میں زندگی، روشنی اور تعلیم کے فوائد سے بھرپور استفادہ کریں گے۔




