تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ
ایک ایسے منظر کا تصور کریں جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں شطرنج کی بساط پر اپنے مہرے آگے بڑھا رہی ہیں۔ اتحاد ٹوٹ رہے ہیں، نئے کھیل شروع ہو رہے ہیں اور عین اسی لمحے پاکستان ایک ایسے اجلاس میں قدم رکھتا ہے، جو پورے خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے! یہ اجلاس ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس۔
یہ ایک ایسا پلیٹ فارم جو نہ صرف نصف دنیا کی آبادی کو سمیٹے ہوئے ہے بلکہ معاشی مواقعوں، توانائی کے منصوبوں اور سفارتی تعلقات کے دروازے بھی کھول رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس موقع کو اپنی تقدیر بدلنے کے لیے استعمال کر پائے گا؟ یا یہ بھی محض ایک تصویر نا سپاس بن کر رہ جائے گا؟
بات کچھ یوں ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جب عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں کشمکش کی گونج ہے، مفادات کے گرداب میں دوستیاں اور دشمنیاں بدل رہی ہیں اور خطے کے آسمان پر بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس چین کے ساحلی شہر تیانجن میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت محض سفارتی تقاضا نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک تابناک باب بھی ہے جو اس افراتفری کے ماحول میں امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم اب محض ایک علاقائی پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ یہ نصف دنیا کی آبادی کا آئینہ دار اور براعظم کی سیاسی حرکیات کا امین ہے۔ اس وسیع و عریض دائرے میں پاکستان کا فعال کردار، اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ ملک خطے کا ایک اہم محور بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس اجلاس میں جو خطاب کیا، اس میں الفاظ نہیں بول رہے تھے بلکہ پاکستان کے خواب اور امن کی تمنا لہو کی طرح دوڑ رہی تھی۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن، اقتصادی تعاون، تجارت اور توانائی کے فروغ پر وہ زور دیا جو ایک دور اندیش سیاستدان کی آواز میں چھپا ہوتا ہے۔ ان کی تقریر محض پاکستان کے مفادات کا پرتو نہیں تھی بلکہ اس نے پورے خطے کی اجتماعی ضرورتوں کا نقشہ بھی پیش کردیا۔ اس اجلاس کے دوران ان کی عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتیں گویا دریچوں کی وہ دستک تھیں جو مستقبل کی راہوں کو روشن کرتی ہیں۔
سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب چینی قیادت سے روبرو گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی اقتصادی راہداری کا وہ سنہرا رشتہ موجود ہے جو پہاڑوں سے بھی بلند اور سمندروں سے بھی گہرا ہے۔ اب اسی رشتے کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ چینی قیادت نے پاکستان کی سلامتی کے لیے کی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یقین دہانی کرائی کہ اقتصادی تعاون کا یہ کارواں رکنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ ملاقات گویا دو دلوں کی دھڑکنیں تھیں جو ایک ہی ردھم پر چل رہی تھیں۔
اسی طرح روسی صدر سے ملاقات بھی کم اہم نہ تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے طاقت کے ترازو میں نئے پلڑے ڈالے جا رہے ہیں تو روس ایک اہم ستون کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھول رہے ہیں بلکہ یہ پورے خطے میں توازن اور استحکام کی نوید بھی ہیں۔ گویا یہ ملاقات محض سفارتی رسم نہیں تھی بلکہ تاریخ کے کینوس پر ایک نیا رنگ بکھیرنے کا پیش خیمہ تھا۔
یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک موقع تھا۔ ایک ایسا موقع جس نے یہ پیغام دیا کہ اگر نیت صاف ہو، حکمت موجود ہو اور عزم راسخ ہو تو سفارت کے سنگلاخ راستوں پر بھی پھول کھلائے جا سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وسطی ایشیا کی فضاؤں میں بھی اپنی سفارتی دستک دی ہے۔ جہاں ترک، بیلاروسی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے چراغ روشن ہوئے۔ یہ محض رسمی مصافحے نہ تھے بلکہ دل سے دل ملنے اور نئے خواب بننے کے روشن لمحے تھے۔ ان بے تکلف ملاقاتوں میں باہمی روابط کے قافلوں کو تیز تر کرنے اور ثقافتی رشتوں کو گہرائی دینے پر گفتگو ہوئی۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان اور ان ممالک کے تعلقات میں جو خوشگوار لہر اٹھی ہے، اب وہ ایک پرعزم ارادے میں ڈھل رہی ہے اور دونوں طرف سے اس رشتے کو اور مضبوط بنانے کی جستجو نمایاں ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس اجلاس نے پاکستان کو یہ سنہری موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک پرامن، تعمیری اور تعاون دوست ملک کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں اور عزم اس روشن شمع کی مانند ہیں جس نے اندھیروں کو بارہا چیر کر روشنی کی کرن پیدا کی۔
اجلاس میں پاکستان کی طرف سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ہم نہ صرف علاقائی سلامتی کے نگہبان ہیں بلکہ باہمی ترقی اور خوشحالی کے راستے بھی ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اعلان ہمارے وقار میں اضافہ اور عالمی برادری میں اعتماد کی ایک تازہ لہر ہے۔دنیا کی بدلتی ہوئی بساط پر جہاں طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں اور پرانے اتحاد اپنی صورت بدل رہے ہیں وہاں پاکستان کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن ، دوراندیش اور حقیقت شناس رکھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ پلیٹ فارم پاکستان کو نہ صرف علاقائی ہمسایوں سے رشتے مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو جلا بخشنے کا وسیلہ بھی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر پاکستان کا کردار جتنا فعال اور بامعنی ہوگا، اتنی ہی ہماری سفارتی دسترس وسیع اور مضبوط ہوگی۔
توانائی کے میدان میں وسطی ایشیائی ممالک سے بجلی اور گیس کی درآمد مستقبل کی ضرورت بھی ہے اور موقع بھی ہے۔ تجارتی قافلوں کو رفتار دینے کے لیے مواصلاتی راستوں کو بہتر بنانا ہوگا اور اس ضمن میں چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا منصوبہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی شاہراہ آگے بڑھ کر دیگر ممالک کو بھی اس کارواں کا حصہ بنا سکتی ہے بشرطیکہ ہم اسے وسعت دینے کا حوصلہ دکھائیں۔
ثقافت کی نرم طاقت بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔ پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تہذیبی رشتے ایسے ہی ہیں جیسے ایک ہی چشمے کا پانی مختلف وادیوں میں بہہ رہا ہو۔ تعلیمی وفود کے تبادلوں، ثقافتی میلوں اور سیاحت کو فروغ دے کر ہم اس چشمے کو اور شفاف اور تعلقات کو زرخیز بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہ اقدام محض دلوں کی قربت نہیں بڑھائے گا بلکہ معاشی خوشحالی کے نئے در بھی کھولے گا۔
دفاعی تعاون کے باب میں شنگھائی تعاون تنظیم ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کریں اور امن دشمن قوتوں کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ یہ محض خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا بھی ذریعہ ہے۔
اس اجلاس نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان خطے کے امن، تعاون اور ترقی کا علَم بردار ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اس خطے کو خوشحالی کی نئی رتوں سے روشناس کرائیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ پلیٹ فارم ہمارے لیے نہ صرف اقتصادی امکانات کا دروازہ ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی آواز کو مزید گہرا اور موثر بنانے کا وسیلہ بھی ہے۔
قارئین کرام! آنے والے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کارواں میں پیش پیش رہیں اور اپنی سفارت کاری کو بصیرت، حوصلے اور تدبر کا لبادہ پہنا کر دنیا کے نقشے پر اپنی شناخت مزید روشن کرلیں۔
یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




