اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے غزہ میں قیامِ امن سے متعلق امریکی امن منصوبے پر چند ترامیم تجویز کی تھیں، تاہم ابتدائی مسودے میں ان تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے، لیکن فوجی شمولیت سے متعلق حتمی فیصلہ اعلیٰ قیادت کرے گی۔
اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا پہلے ہی 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل امن فوج فلسطین بھیجنے کا اعلان کر چکا ہے، اور پاکستان بھی اس بارے میں سنجیدہ مشاورت کر رہا ہے۔نائب وزیراعظم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان نے منصوبے پر ایسی ترامیم تجویز کیں جن سے امن کوششیں متاثر نہ ہوں اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق بھی مقدم رہیں۔ "ہم نے بنیادی نکات کو چھیڑے بغیر تجاویز دیں تاکہ مسئلہ متنازع نہ ہو، اور فلسطینی قیادت کو بھی تحفظات نہ ہوں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی تجاویز بعد ازاں سعودی عرب سمیت دیگر شریک ممالک کو بھیجی گئیں اور ان پر جزوی اتفاق ہوا، لیکن امریکی فریق کی جانب سے جاری ہونے والے ابتدائی مسودے میں یہ شامل نہیں تھیں۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے مسئلے پر دوٹوک اور مؤثر انداز میں آواز بلند کی۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی حکام، ترکیہ اور دیگر ممالک نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
ان کے مطابق 8 مسلم ممالک نے غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا، فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جسے فلسطینی اتھارٹی نے "خوش آئند” قرار دیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے امن منصوبے پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ "کیا وہ چاہتے ہیں کہ غزہ میں خون بہتا رہے؟ معصوم بچے بھوک سے مرتے رہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں؟”۔انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلم رہنماؤں کے درمیان کئی اہم مگر خفیہ ملاقاتیں ہوئیں۔ ان اجلاسوں میں تبادلہ خیال روایتی سفارتی ذرائع کے بجائے کاغذی پیغامات اور براہِ راست میٹنگز کے ذریعے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے کلاسیفائیڈ تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا، جن کی تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں۔ پاکستان نے مکمل سنجیدگی کے ساتھ ہر مرحلے میں شرکت کی۔




