پشاور: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی کارروائی کے دوران ایک افغان دہشت گرد سطورے کو گرفتار کر لیا، جس نے دورانِ تفتیش کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستگی اور دہشت گردی کے منصوبوں کا اعتراف کیا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کا تعلق افغان صوبے ننگرہار سے ہے۔ سطورے نے غزنی یونیورسٹی سے فقہ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں کابل کے ایک مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دیتا رہا۔
ملزم کے مطابق اس نے ٹی ٹی پی کے کمانڈر قاری محمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، جس کے احکامات پر وہ علاج کے بہانے پشاور آیا۔ علاج مکمل ہونے کے بعد اسے قاری محمد کی جانب سے پشاور کے ایک مدرسے میں داخلہ لینے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں سمیت ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کا حکم دیا گیا۔
اعترافی بیان میں سطورے نے بتایا کہ قاری محمد نے اسے کابل میں موجود ایک عالم دین کو نشانہ بنانے کی بھی ہدایت دی تھی۔ تاہم، دہشت گرد اپنے منصوبے پر عملدرآمد سے قبل ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سطورے سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران ٹی ٹی پی کے سرکردہ نیٹ ورک سے متعلق مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔




