پاکستان
Trending

بڑی کٹوتی، کڑا وقت: وزیراعظم کا اشرافیہ اور سرکاری مشینری کی مراعات ختم کرنے کا بڑا اعلان

 

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اپنے ہنگامی خطاب میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 100 ڈالر فی بیرل تک کے اضافے کے بعد ملک بھر میں "تاریخی کفایت شعاری ایمرجنسی” نافذ کر دی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ معیشت کو بچانے کے لیے اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی۔
وزیراعظم نے سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے درج ذیل انقلابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے تمام ارکان اگلے 2 ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے۔ پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کمی: تمام سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں فوری طور پر آدھی کٹوتی کر دی گئی ہے۔ گاڑیوں پر پابندی: تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ تیل کی بچت کے لیے ملک بھر کے دفاتر اب ہفتے میں صرف 4 دن کھلیں گے (بینک اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے)۔
وزیراعظم نے حکومتی مشینری کو لگام ڈالتے ہوئے درج ذیل پابندیاں فوری طور پر نافذ کر دی ہیں ۔ تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد فوری کمی۔ وزراء، مشیران اور سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی۔ سرکاری سطح پر دیے جانے والے عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پاکستان کے اختیار میں نہیں، لیکن ہم اپنے داخلی اخراجات کم کر کے عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملکی سلامتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار پاک افواج اور فیلڈ مارشل کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دشمن کے عزائم ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے ناگزیر تھے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام دیا جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button