کولمبو/تہران :دنیا بھر کی نظریں اس وقت بحرِ ہند پر مرکوز ہیں جہاں غیر ملکی خبر رساں اداروں نے ایک انتہائی تشویشناک اطلاع دی ہے کہ بھارتی سمندر میں ایک امریکی آبدوز نے ایرانی بحریہ کے ’موڈج کلاس فریگیٹ‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جنہیں عسکری ماہرین ہلاک تصور کر رہے ہیں۔
ایرانی جہاز بھارت میں ہونے والی عالمی بحری مشقوں ’میلان 2026‘ اور ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو‘ میں شرکت کے بعد اپنی بندرگاہ کی جانب گامزن تھا کہ سری لنکا اور بھارت کے ساحلوں کے قریب اسے نشانہ بنایا گیا۔ سری لنکا کی بحریہ اور فضائیہ نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ 30 زخمیوں کو گالے بندرگاہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو جلنے اور شدید چوٹوں کے زخم آئے ہیں۔
اس واقعے نے خطے میں شدید سفارتی تناؤ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اسی بحری اجتماع میں امریکی اور روسی بحریہ کے جدید ترین جہاز بھی موجود تھے۔سری لنکن پارلیمان میں اس حملے کی گونج سنی گئی جہاں اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ امریکی یا اسرائیلی بمباری کا نتیجہ ہے؟ حکومت نے فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔




