برطانیہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کو راغب کرنے کے لیے ’گلوبل ٹیلنٹ ویزا‘ کی فیس ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی زیر قیادت قائم گلوبل ٹیلنٹ ٹاسک فورس اس تجویز پر کام کر رہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی سطح کے سائنسدانوں، محققین، ڈیجیٹل ماہرین اور تعلیمی شخصیات کو برطانیہ میں لانا ہے تاکہ معیشت کو ترقی دی جا سکے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ان افراد کو ویزا فیس میں مکمل رعایت دی جا سکتی ہے جنہوں نے دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات سے تعلیم حاصل کی ہو یا انہیں کسی عالمی سطح کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہو۔
فی الحال گلوبل ٹیلنٹ ویزا کی فیس 766 پاؤنڈ ہے، جو شریکِ حیات اور بچوں پر بھی لاگو ہوتی ہے، یوں ایک فیملی کے لیے مجموعی لاگت تقریباً 12 لاکھ پاکستانی روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے H-1B ویزا درخواستوں پر 100,000 ڈالر فیس نافذ کر دی ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ موقع برطانیہ کو عالمی ٹیلنٹ کے لیے ایک پرکشش متبادل کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
متوقع طور پر یہ تجویز 26 نومبر کے برطانوی بجٹ میں شامل کی جا سکتی ہے۔




