نئی دہلی : بھارت میں آئندہ عام انتخابات سے قبل ریاست بہار میں لاکھوں اقلیتی ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی اخبار دی ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ووٹر لسٹوں میں نظرِ ثانی کے عمل (Special Summary Revision) کے دوران مسلم اکثریتی اضلاع میں ووٹرز کے ناموں کی غیر معمولی کٹوتی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مدھوبنی، مشرقی چمپارن، پورنیہ اور ستمرھی جیسے اضلاع میں لاکھوں ووٹرز کے فارم واپس نہ آنے کی بنیاد پر ان کا نام ووٹر لسٹ سے ممکنہ طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ انتخابی اصلاحات کی اس مہم کے دوران درج ذیل اضلاع میں متاثرہ ووٹرز کی تعداد یوں بتائی گئی ہے:
مدھوبنی: 3,52,545
مشرقی چمپارن: 3,16,793
پورنیہ: 2,73,920
ستمرھی: 2,44,962
دیگر متاثرہ اضلاع میں پٹنہ، گیا، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور سمستی پور شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ریاست میں 65 لاکھ سے زائد ووٹرز کو فہرستوں سے نکالا گیا ہے، جن میں بڑی تعداد اقلیتی، دلت اور غریب طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔
اپوزیشن اور انسانی حقوق کے اداروں کا ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کو ایک منظم سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا ایجنڈے کے تحت خاص طور پر مسلمانوں اور نچلے طبقات کے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، "ووٹ مانگنے سے پہلے ووٹرز کو ہی مٹا دینا” مودی حکومت کا نیا انتخابی ہتھیار بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل بھارت میں جمہوری اقدار اور آئینی برابری کے خلاف ایک خاموش مگر سنگین وار ہے، جس سے اقلیتوں کا جمہوری عمل میں شرکت کا حق محدود ہو رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کی وضاحت
الیکشن کمیشن کے مطابق، 7.24 کروڑ ووٹرز کے فارم موصول ہو چکے ہیں، جب کہ اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ یکم ستمبر مقرر کی گئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ فارم جمع نہ ہونے کی صورت میں ووٹر لسٹ سے اخراج ممکن ہے، تاہم تمام معاملات کو شفاف طریقے سے دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے اقلیتوں کا اخراج ایک خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ بھارت جیسے کثیرالمذاہب اور متنوع معاشرے میں سیاسی پولرائزیشن کو مزید گہرا کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر لسٹ کی اصلاحات کے نام پر اقلیتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بھارت میں آئندہ انتخابات کی شفافیت اور ساکھ کے لیے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دے گا۔




