واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی فنڈنگ کے حوالے سے ایک اہم بل پر دستخط کر کے ملک میں جاری شٹ ڈاؤن کا خاتمہ کر دیا۔ اس اقدام کے بعد 43 دنوں سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کا بحران اختتام پذیر ہوا، جس کے دوران ہزاروں سرکاری ملازمین اور اہم حکومتی خدمات متاثر ہو رہی تھیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان میں اس بل کو منظور کرنے کے دوران 222 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ 209 نے مخالفت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ ڈیموکریٹ ارکان نے بھی ریپبلیکنز کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی، جو ایک غیر معمولی سیاسی اتفاق رائے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹرمپ نے اس بل پر دستخط کیے اور کہا، "آج کا دن امریکہ کی تاریخ کا ایک بہترین دن ہے، ملک کبھی اس سے بہتر حالت میں نہیں رہا۔” ان کے اس بیان کے بعد حکومتی نظام دوبارہ معمول کی طرف لوٹ آیا اور مالی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنے لگیں۔
شٹ ڈاؤن کے دوران، ہزاروں سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کر رہے تھے، جب کہ کئی کو رخصت پر بھیج دیا گیا تھا اور کچھ کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا تھا۔ اخراجاتی بل کی منظوری کے بعد حکومت کے لیے 30 جنوری تک فنڈز فراہم کرنے کی ضمانت حاصل ہو گئی ہے، جس سے حکومتی خدمات دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔
اس بل کا مقصد صرف حکومتی ملازمین کو تنخواہیں فراہم کرنا ہی نہیں تھا، بلکہ شٹ ڈاؤن کے دوران متاثر ہونے والی اہم حکومتی خدمات جیسے غذائی امدادی سکیموں اور ایئر ٹریفک کنٹرول نظام کی بحالی بھی تھی، جو اب دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔




