مظفر آباد : آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم چودھری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آج دوپہر 2 بجے تک استعفیٰ دے دیں، ورنہ پارٹی عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر دے گی۔
ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت 36 ارکان کی حمایت موجود ہے، اور وہ دوپہر 2 بجے کے بعد کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم، وزیرِ اعظم چودھری انوار الحق نے استعفیٰ دینے کی بجائے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مخالفین ان کے خلاف مطلوبہ نمبرز پورے کر لیتے ہیں، تو وہ بنا کسی اعتراض کے "گھر چلے جائیں گے”۔
دوسری جانب، پیپلز پارٹی گزشتہ کئی روز سے جوڑ توڑ میں مصروف ہے، اور پارٹی قیادت نے صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے مطلوبہ نمبرز مکمل ہیں۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ابھی تک نئے وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق، پیپلز پارٹی نئے قائد ایوان کے لیے اپنا امیدوار پیش کرے گی، جبکہ مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ نئے قائد ایوان کے انتخاب کے بعد مسلم لیگ ن اپوزیشن میں بیٹھے گی اور اس کے ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چار ارکان اپوزیشن میں موجود ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے 10 ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ جا ملے ہیں، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس آزاد کشمیر اسمبلی میں 27 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 27 ارکان کی حمایت چاہیے ہو گی تاہم پیپلز پارٹی کے پاس 27 ارکان ہونے کے ساتھ اس کے جیتنے کے امکانات واضح ہیں۔
مسلم لیگ ن کے پاس 9 ارکان ہیں، جب کہ وزیرِ اعظم انوار الحق کے کیمپ میں 10 ارکان موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے پاس ایک ایک نشست ہے، جس سے مجموعی سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم انوارالحق تاحال تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، اور ان کے کیمپ سے بھی پیپلز پارٹی کو نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ووٹ مل سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں یہ وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور آئندہ چند گھنٹوں میں سیاسی صورتحال میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں.




