تحریر: مصطفے صفدر بیگ
دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور جنوبی ایشیا کے افق پر صبح نو کا سورج طلوع ہورہا ہے، ایک ایسی صبح، جس کی کرنیں ماضی کی تلخیوں کے غبار کو چیر کر اُفق پر سنہری حروف سے امید کا نیا باب لکھنے کو بے تاب ہیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش یعنی دو بدن اور ایک روح، جن کے دل کبھی ایک ہی دھڑکن کی لے پر دھڑکتے تھے، مگر تاریخ کے تھپیڑوں نے انہیں ایک دوسرے سے دور پھینک دیا۔ آج وقت کی ساعت نے وہ گھڑی پھر سے سامنے لا کھڑی کی ہے، جہاں دوری کی کہر چھٹ رہی ہے ، اور قرابت کا چراغ پھر سے روشن ہونے کو ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاسی فضائوں میں حالیہ تبدیلیاں ایسی ہیں، جیسے سوکھے درخت پر بارش کی پہلی بوند گرتی ہے۔نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا دورہ ڈھاکہ اور وہاں ہونے والے اہم معاہدے اس بات کا عندیہ ہیں کہ دونوں ممالک ماضی کے گرداب سے نکل کر مستقبل کی وسعتوں میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے پر آمادہ ہیں۔
یہ محض سفارتی ملاقاتیں نہیں تھیں بلکہ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے، دو دلوں کا دوبارہ جڑنا، دو دھڑکنوں کا ایک لے میں آنا اور دو خوابوں کا ایک ہی تعبیر میں ڈھلنا ہو۔یہ نئی کوششیں نہ صرف سیاست کے بگڑے ہوئے رنگوں کو سنوارنے کا عزم رکھتی ہیں بلکہ معیشت اور تجارت کے بند دروازوں پر بھی دستک دے رہی ہیں۔
یہ حقیقت کسی پردے میں نہیں کہ دونوں ملک ترقی پذیر ہیں، دونوں کے پاس کروڑوں انسانوں کی افرادی قوت ہے، وسیع منڈیاں بھی موجود ہیں مگر دونوں ملکوں کی آپس میں باہمی تجارت اس دریا کی مانند ہے جو اپنی گہرائی کے باوجود پیاس بجھانے سے قاصر ہو۔
اگر یہ رکاوٹیں دور کردی جائیں اور اگر اعتماد کے روشندان پھر سے کھول دیے جائیں، تو یہ دونوں ملک مل کر خطے کے معاشی نقشے پر نئی لکیریں کھینچ سکتے ہیں، ایسی لکیریں جو ترقی، خوشحالی اور تعاون کی داستان سنائیں۔
ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کا شعبہ تو گویا دونوں ممالک کے بیچ ایک قدرتی پل ہے۔ پاکستان کپاس کی سرزمین ہے اور اسی وجہ سے یارن یعنی سوتی دھاگے اور فیبرک یعنی کورے کپڑے کا گلشن بھی کہلاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش دنیا بھر میں گارمنٹس کی برآمد کا نگینہ ہے۔سوچئے، اگر یہ دونوں ہاتھ ملالیں تو پاکستان کے کھیتوں سے اگی کپاس بنگلہ دیش کی صنعت میں جا کر سنہرا رنگ و روپ اختیار کرے اور پھر مشترکہ طور پر عالمی منڈیوں میں چمکے تو یہ امتزاج دونوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔
زراعت میں بھی دونوں ممالک کی کہانی ایک دوسرے کے لیے درس ہے۔ بنگلہ دیش چاول، مچھلی اور پھلوں کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اسی طرح پاکستان خطے میں گندم، کپاس اور چاول کا علمبردار ہے۔ بیج کی تحقیق سے لے کر جدید کاشتکاری تک ، دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے خوشہ چیں ہوسکتے ہیں۔
اگر خوراک کی پروسیسنگ اور پیکنگ کے شعبے میں بھی مشترکہ منصوبے بنیں تو اس زمین کے کسانوں کی محنت سونے سے بھی قیمتی بن سکتی ہے۔اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا جہان تو ایک نیا کائناتی در کھول رہا ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کا چراغ روشن ہے اور بنگلہ دیش کی رفتار بھی کسی تیز رو دریا سے کم نہیں۔اگر دونوں ملک سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آئی ٹی سروسز میں قدم سے قدم ملا کر چلیں، تو نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر مل سکتی ہے۔ جب تخلیق کار دماغ اور جستجو سے لبریز دل یکجا ہوں تو ترقی کا سفر بھی قافلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
دونوں ملکوں کے یہ تعلقات محض معاہدوں کی زنجیر نہیں ہیں، بلکہ یہ ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑنے کا عزم ہیں، یہ اس سوچ کا اظہار ہیں کہ خطے کا مستقبل مقابلے میں پنہاں نہیں ہے بلکہ یہ باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔
یہ لمحہ دونوں قوموں کے لیے امتحان بھی ہے اور موقع بھی ہے۔ امتحان اس بات کا، کہ کیا ہم اپنی انا کے سائے سے نکل سکتے ہیں؟ اور موقع اس بات کا، کہ کیا ہم اپنے خوابوں کو تعبیر دے سکتے ہیں؟۔وقت کی گھڑی دستک دے رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس دستک کو پہچانتے ہیں یا پھر یہ لمحہ بھی تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان حجاب کے پردے اٹھ رہے ہیں ، یہ تعلق محض معیشت یا تجارت کی ایک لکیر نہیں ہے بلکہ یہ امکانات کا ایک اُفق ہے، جو ہر شعبے میں روشنی بکھیر رہا ہے۔
توانائی کے میدان کو ہی لے لیجیے۔ بنگلہ دیش کے دامن میں قدرتی گیس کے وافر ذخائر ہیں اور پاکستان متبادل ذرائع، خصوصاً شمسی توانائی میں اپنی مشعل روشن کر رہا ہے۔ اگر یہ دونوں ملک اپنے وسائل اور تجربات کو یکجا کر لیں ، تو توانائی کا یہ پیکر نہ صرف اپنے گھروں کو جگمگا سکتا ہے بلکہ خطے میں ترقی کے نئے چراغ بھی روشن کر سکتا ہے۔
قابل تجدید توانائی میں مشترکہ منصوبے، سرحدوں کے آر پار جانے والی بجلی کے وسائل ، اور توانائی کی ترسیل کے جدید نظام، یہ سب مل کر معاشی طاقت کو نئی صورت دے سکتے ہیں۔اسی طرح ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کا شعبہ ہے۔ زمینی راستے جن پر کبھی وقت کی گرد جمی رہی، بحری گزرگاہیں جنہیں فاصلے کی دیواروں نے محدود کر رکھا تھا اور ہوائی پروازیں جو سیاست کے بادلوں میں گم ہو کر رہ گئیں تھیں، ان سب کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے پاس سی پیک کے تجربات کا سرمایہ ہے، وہ راہیں جن پر ترقی کے قافلے گزرے اور خواب حقیقت میں ڈھلے۔ بنگلہ دیش بھی حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔اگر دونوں ملک بندرگاہوں، ایئرپورٹس اور ہائی ویز جیسے منصوبوں پر شانہ بشانہ کھڑے ہوں تو یہ تعاون نہ صرف فاصلے مٹائے گا بلکہ دلوں کو بھی قریب لے آئے گا۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ثقافت اور تعلیم وہ رشتے ہیں جو سرحدوں سے آزاد اور دلوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی تہذیبی جڑیں ایک ہی مٹی سے پھوٹتی ہیں۔ زبانوں کی خوشبو ، لوک موسیقی کے سر اور تانیں اور ادبی ورثے کے رنگ، یہ سب مماثلتوں کا وہ سرمایہ ہیں جنہیں دونوں قوموں کو مل کر آگے بڑھانا ہے۔
ثقافتی میلوں، ادبی کانفرنسوں اور فنکاروں کے طائفوں کے تبادلوں سے یہ رشتہ اور بھی نکھر سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے درمیان تعلقات طلبہ اور اساتذہ کو نئے افق دکھا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کے ذہن جب ایک دوسرے سے روشنی پاتے ہیں، تو آنے والے کل کے لیے امید کی نئی کھڑکیاں کھلنے لگتی ہیں لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک ماضی کے زخموں کو وقت کے مرہم سے مندمل کرکے مستقبل کی طرف نگاہ کرلیں۔یہ وہ لمحہ ہے جو دونوں قوموں کے ہاتھوں میں رکھا گیا ہے۔ یہ ایک سنہری موقع ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اپنے عوام کے لیے خوشحالی کی نئی داستان رقم کرسکے۔
اگر اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مفادات پر توجہ دی جائے ، تو نہ صرف عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا ، بلکہ خطے میں امن و استحکام کی فضا بھی قائم ہوگی۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے چھ معاہدے محض کاغذ پر لکھی تحریریں نہیں ہیں ، بلکہ یہ دو دلوں کی دھڑکنیں ہیں ، جنہیں عمل کی حرارت سے جلا دینا ضروری ہے۔
تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ، سرحدی کارروائیوں کو سہل بنانا ، سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا ماحول پیدا کرنا ، یہ سب اقدامات اس رشتے کو مزید مضبوطی فراہم کریں گے۔دوستو! یہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں ہے ، بلکہ یہ تو ایک اہم اور تاریخی موڑ ہے۔ اگر دونوں ممالک نے اس موڑ میں چھپے جوہر کو پہچان لیا، تو یہ تعلقات ایک ایسے درخت میں بدل سکتے ہیں جس کی جڑیں گہری ہوں گی ، شاخیں مضبوط ہوں گی اور پھل دونوں قوموں کے لیے یکساں شیریں ہوگا۔ یہ موقع وقت کی دی ہوئی امانت ہے، اسے ضائع کرنا تاریخ سے بدترین بے وفائی ہوگی۔
یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




