بیجنگ : چین میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور عالمی فاشزم کے خلاف فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ کے تاریخی تیانمن اسکوائر میں ایک شاندار اور پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر چین نے اپنی عسکری طاقت، قومی اتحاد اور سفارتی اثر و رسوخ کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
تقریب کا آغاز 80 توپوں کی سلامی سے ہوا، جس سے پورا تیانمن اسکوائر گونج اٹھا۔ صدر شی جن پنگ نے جنگ عظیم دوم کے چینی جانبازوں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہا، جن میں کئی کی عمریں 90 سال سے زائد تھیں۔
تقریب کی سب سے توجہ طلب جھلک شاندار فوجی پریڈ تھی، جس میں چین کی بری، بحری اور فضائی افواج کے دستوں نے جدید ترین ٹینک، میزائل بردار گاڑیاں، ڈرونز اور بین البراعظمی نیوکلیئر میزائلز کا مظاہرہ کیا۔ صدر شی جن پنگ نے فوجیوں کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اپنی فوج کو "ورلڈ کلاس ملٹری” بنانے کے سفر کو تیز کرے گا اور قومی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے کام کرے گا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس تقریب میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، ایران کے صدر پزشکیان سمیت 26 ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اور صدر شی جن پنگ سے خصوصی ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو تقریب میں مدعو نہ کیا جانا ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
تقریب کا اختتام 80 ہزار فاختائیں چھوڑ کر اور رنگ برنگے غبارے فضا میں بلند کر کے کیا گیا، جبکہ عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں "گریٹ ہال آف دی پیپل” میں خصوصی عشائیہ بھی دیا گیا۔




