خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر گرما رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد اپوزیشن کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، اور اطلاعات ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ کیا یہ سرگرمیاں واقعی صوبائی اسمبلی کی کمپوزیشن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ یا یہ محض ایک سیاسی ہلچل ہے جو چائے کی پیالی میں طوفان بن کر رہ جائے گی؟ آئیے اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
صوبائی اسمبلی کی موجودہ کمپوزیشن
خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں کل 145 نشستیں ہیں، جن میں سے 115 جنرل نشستیں، 26 خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، اور 4 غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مختص ہیں۔ گذشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں ترانوے نشستوں پر فاتح قرار پائی تھی اور یہ ایوان کے تناسب کے لحاظ سے دو تہائی سے زائد بنتی ہے
اس کے مقابلے میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس فی الحال 27 اراکین ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے 9-9 اراکین، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے 5، اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز (پی ٹی آئی-پی) کے 2-2 اراکین شامل ہیں۔
مخصوص نشستوں کی حالیہ تقسیم کے بعد اپوزیشن کی تعداد بڑھ کر 54 ہو جائے گی، لیکن سادہ اکثریت کے لیے 73 اراکین کی ضرورت ہے۔ اس ہدف تک پہنچنے کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 20 مزید اراکین کی حمایت درکار ہے، جو کہ ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔
پی ٹی آئی کی مضبوط پوزیشن
پی ٹی آئی کی صوبائی اسمبلی میں موجودہ پوزیشن انتہائی مضبوط ہے۔ 93 اراکین کی حمایت کے ساتھ، وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔ تاہم، صوبے میں تحریک انصاف کے ہی کچھ گروپس کے درمیان ناراضی کی اطلاعات ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندر دو سے تین گروپ گنڈاپور کی قیادت کے خلاف کھل کر بولتے رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ گروپ پی ٹی آئی چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے؟ اسکے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ ایسا کوئی بھی قدم ان اراکین کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
پی ٹی آئی کے 35 آزاد اراکین فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن ان کا بھی اپوزیشن کے ساتھ جانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن کی جماعتیں خود بھی آپس میں مکمل ہم آہنگی کی کمی کا شکار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان وفاقی سطح پر اتحاد ہونے کے باوجود صوبائی سطح پر ان کے مفادات مختلف ہیں۔
سوشل میڈیا اور گنڈا پور، غیر مقبول
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے صوبائی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر گنڈاپور کی قیادت پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ قانون میں اسکی کوئی گنجائش نہیں تاہم کارکنوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی ہدایت کے بغیر بجٹ پاس نہیں ہونا چاہیے تھا۔ خیبر پختونخوا میں گورننس کے مسائل جیسے بجلی، گیس، روزگار، اور امن و امان کی خراب صورتحال پر صارفین تنقید کرتے ہیں۔ حالیہ گیلپ سروے کے کے مطابق 66% عوام گیس سے محروم ہیں، 49% کے پاس بجلی نہیں، 59% بے روزگار ہیں، اور 57 دہشت گردی سے خوفزدہ ہیں۔ اس تنقید کے باوجود، پی ٹی آئی کی عددی برتری اسے کسی فوری خطرے سے محفوظ رکھتی ہے۔
دی خٹک فیکٹر
اپوزیشن جماعتیں، بالخصوص مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف)، خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے میں سرگرم ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور صوبائی سیاست کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، گورنر نے مانکی شریف میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے ملاقات کی، جہاں ان کی بہن کے انتقال پر تعزیت کے ساتھ ساتھ سیاسی تعاون پر بھی بات ہوئی۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پرویز خٹک سے ملاقات میں سینیٹ انتخابات اور ممکنہ تحریک عدم اعتماد پر بات کی۔ ذرائع کے مطابق، مولانا چاہتے ہیں کہ پرویز خٹک جے یو آئی میں باضابطہ شمولیت اختیار کریں اور پھر جدو جہد کریں۔
تاہم پرویز خٹک سیاسی طور پر صوبے میں اپوزیشن کو قابل قدر کندھا فراہم کر سکیں گے یا نہیں، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیونکہ 2024 کے انتخابات میں ناکامی کے بعد پرویز خٹک کی سیاسی اہمیت کم ہوئی۔ مارچ 2025 میں انہیں وفاقی کابینہ میں بطور مشیر برائے داخلہ شامل ہوئے۔ مگر وہ اہم ٹاسک سونپے جانے کے باوجود سیاسی طور پر صوبے میں اپنا موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔




