لاہور : پنجاب حکومت نے صوبے میں صحت عامہ کی سہولیات میں بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر سے چینی کمپنی ہواوے کے وفد نے ملاقات کی جس میں باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفد میں ڈائریکٹر کمرشل مارکیٹنگ ٹوشنگ، ڈائریکٹر آئی ٹی سسٹم چاوڈی اور ڈائریکٹر سٹوریج شعیب شامل تھے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر چین کے ماڈل کی طرز پر “سمارٹ ہسپتال” کا نظام پنجاب میں متعارف کروایا جائے گا۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ صحت کے شعبے میں AI اور IT جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال نہ صرف مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کرے گا بلکہ پورے نظام کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی بیسڈ سسٹم کے ذریعے ہسپتالوں میں وسائل کی مساویانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی جبکہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے ہیومن ریسورس کے مسائل بھی حل ہوں گے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ اس منصوبے سے ہیلتھ انفراسٹکچر میں بہتری کے ساتھ ساتھ ٹیلی میڈیسن کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرلائز ہیلتھ ڈیٹا سسٹم کے قیام سے مریضوں کے ریکارڈ مرتب کرنا آسان ہوگا اور انہیں ان کی ضروریات کے مطابق بہتر علاج فراہم کیا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بیماریوں کے پیٹرن کو سمجھنے اور مؤثر پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔ منصوبے کے تحت مریضوں کے پروفائلنگ سسٹم سے نیڈ بیس سولیوشنز تیار کیے جائیں گے، جس سے ہسپتالوں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔
خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں پانچ شہروں میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا، جس کے بعد اس ماڈل کو مرحلہ وار پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے “کلینک آن ویلز” اور “مریم نواز ہیلتھ کلینک” پروگرامز کو بھی ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو صحت کی سہولیات زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔




