پاکستان
Trending

دہشتگردی کے پیچھے سیاسی گٹھ جوڑ، نیشنل ایکشن پلان صرف کاغذوں تک محدود: ڈی جی آئی ایس پی آر

 

راولپنڈی : ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے پیچھے سیاسی مفادات، مقامی سہولت کاروں اور بیرونی قوتوں کا گٹھ جوڑ ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا اور دہشتگردی جیسے حساس معاملے پر بھی سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، جس نے قوم کو تقسیم کر کے دہشتگردوں کو فائدہ پہنچایا۔

اہم نکات:

2025 میں 10,115 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے

917 دہشتگرد مارے گئے، 516 پاکستانی شہید

افغان دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی جاری

عدالتی سزاؤں کی شرح انتہائی کم، CTD کی استعداد ناکافی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، عدلیہ، پولیس، خفیہ ادارے، اور سیاسی قیادت کو یکساں طور پر سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اگر نیشنل ایکشن پلان کے صرف ایک نکتے پر کام ہو رہا ہے اور باقی تمام نکات نظرانداز ہو رہے ہیں تو پھر ہم دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟”

انہوں نے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2878 مقدمات گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا ہیں، اور انسداد دہشتگردی عدالتوں سے اب تک کسی ایک دہشتگرد کو سزا نہیں ہوئی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے 30 خودکش حملے ہو چکے ہیں جن میں افغان شہری ملوث تھے۔ انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے اڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو روکنے والی آوازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "جب افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے تو مہاجرین کی واپسی پر سیاست کیوں؟۔انہوں نے خبردار کیا کہ "اب اسٹیٹس کو قبول نہیں کیا جائے گا” اور جو بھی افراد یا گروہ دہشتگردوں کے لیے سہولت کاری کریں گے، انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہولت کاروں کے لیے تین آپشنز دیے، خود دہشتگردوں کو ریاست کے حوالے کریں، ریاست کے ساتھ مل کر کارروائی کریں، بصورت دیگر ریاستی طاقت کا سامنا کریں۔

انہوں نے آخر میں شہداء کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ "ان کی قربانیوں پر سیاست کرنا قومی جرم ہے، قوم اور ریاست مل کر دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button