پشاور سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جڑیں بہت گہری ہیں اور صرف فوجی قوت سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ اپنے شہداء کے ساتھ ہمیشہ کھڑے ہیں اور دہشت گردوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت کی افغان تعلقات کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’کل کی پریس کانفرنس کا جواب مکمل طور پر نہیں دیں گے، تاہم قوم پاکستان تحریک انصاف کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور اس ناانصافی کو ختم کرنا ضروری ہے۔
معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کی تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس سے نئی شروعات ممکن ہوں گی۔ انہوں نے گورنر راج نافذ کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔
دہشت گردی کے حوالے سے سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دنیا کے ہر خطے میں بات چیت جاری رہتی ہے اور پاکستان کو بھی مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔




