پاکستان

صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کی افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت

اسلام آباد: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان کی قیادت کو سخت پیغامات دیے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔

صدر آصف علی زرداری

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے افغان جارحیت پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی بھارت کے غیر قانونی دعووں کو تسلیم نہیں کرے گا، اور جموں و کشمیر کا مسئلہ عالمی قوانین کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

صدر زرداری نے افغان قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آزادی کی جدوجہد سے منہ موڑ کر امت اور حق کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی سرزمین سے دہشت گرد گروہ پاکستان کے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، جن کی کارروائیوں کو اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بھی تسلیم کرتی ہیں۔

انہوں نے افغان قیادت سے درخواست کی کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، کیونکہ خطے میں امن کے لیے "فتنۂ خوارج” اور "فتنۂ ہندوستان” کا گٹھ جوڑ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جو کسی ایک ملک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغان عوام کے تعلیمی اور انسانی ضروریات کے لیے جاری تعاون کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف 

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کی اور افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ انہوں نے پاک فوج کی جانب سے اس اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دینے پر خراج تحسین پیش کیا، اور کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف افغانستان کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا بلکہ افغان فورسز کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے، اور ملک کا ہر چپہ ان کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان نے کئی بار افغانستان کو وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، اور پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان نگران حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button