مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے 25 کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جن کے مصنفین میں مولانا مودودی، عائشہ جلال، ارون دھتی رائے اور دیگر ممتاز دانشور شامل ہیں۔ بھارتی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کتب ’’ریاست مخالف جذبات‘‘، ’’علیحدگی پسندی‘‘ اور ’’تشدد پر مبنی بیانیے‘‘ کو ہوا دے رہی ہیں۔
سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹس اور تفتیشی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں کشمیری نوجوانوں کو شدت پسندی، سیکیورٹی فورسز کی مخالفت اور علیحدگی پسند خیالات اپنانے پر اکسا رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تصانیف میں قربانی اور مظلومیت کو بنیاد بنا کر شدت پسندوں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
متنازعہ فہرست میں شامل چند اہم کتب:
1. الجہاد فی الاسلام – مولانا مودودی
2. آزادی – ارون دھتی رائے
3. کشمیر کی آزادی کی جدوجہد – محمد یوسف سراف
4. کشمیر اور جنوبی ایشیا کا مستقبل – سگاتا بوس و عائشہ جلال
5. کیا تمہیں کنن پوش پورہ یاد ہے؟ – عصار بتول و دیگر
6. کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں – پیوتر بالسیرووچ
دانشور طبقے کی شدید تنقید
پابندی کے اس فیصلے کو آزادی اظہار رائے پر ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں، ادبی حلقوں اور بین الاقوامی ماہرین تعلیم نے اس اقدام کو ’’غیر آئینی‘‘ اور ’’اکیڈمک فریڈم کی سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے، خاص طور پر ان کتابوں پر جو معروف جامعات یا بین الاقوامی اشاعتی اداروں سے شائع ہوئیں۔
دوسری جانب، بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام "نوجوان نسل کو انتہا پسندی سے بچانے” اور "ملک دشمن بیانیے کی بیخ کنی” کے لیے ناگزیر تھا۔ محکمہ داخلہ کے مطابق، ان کتب کو عوامی رسائی سے ہٹانا قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔
0 14 1 minute read




