اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں افغانستان میں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کی سرگرمیاں بے نقاب ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ دہشت گرد گروہ افغانستان کے چھ صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں آزادانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
رپورٹ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگران ٹیم نے 24 جولائی 2025 کو سیکیورٹی کونسل کو پیش کی، جس میں واضح کیا گیا کہ افغانستان کی حکام نے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کے کئی تربیتی کیمپ فعال ہیں، جن میں تین نئے کیمپ بھی شامل ہیں جہاں دہشت گردوں کو عسکری تربیت دی جا رہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے پاس تقریباً 6,000 جنگجو ہیں جن کے پاس جدید ہتھیار بھی موجود ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں اور ان کی سہولت کاری کو فوری ختم کرنا ہوگا۔




