پاکستان

کشمیری عوام آج مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے 78سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منا رہے ہیں

مظفرآباد: 27 اکتوبر 1947 کشمیریوں کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف، غیرقانونی طور پر ریاست جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا۔ آج کے دن کو "یوم سیاہ” کے طور پر منانے کی روایت برقرار ہے، جس کا مقصد دنیا کو بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس دن کو بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بھرپور احتجاج کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے احتجاج، ریلیاں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں کشمیری عوام نے اپنی جدوجہد آزادی کے عزم کا اعادہ کیا۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کو مسترد کیا ہے، جو 5 اگست 2019 کو کیا گیا تھا۔

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چودھری انوارالحق نے اس دن کو سیاہ ترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے برصغیر کی تقسیم کے اصولوں کی خلاف ورزی کی، اور کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس اپنی فوجیں اتار کر کشمیر پر قبضہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔

چودھری انوارالحق نے مزید کہا کہ بھارت نے 1947 سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا، اور 1989 کے بعد 96 ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں کی جانیں لی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں ہے، اور ان کی جدوجہد کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں حق خودارادیت دلانا ہے۔

یوم سیاہ کے موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق دلوانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور بھارت کے غیرقانونی قبضے کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button