لاہور: عالمی فضائی آلودگی کے ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق، لاہور ایک مرتبہ پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی چوتھے نمبر پر ہے۔ لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 312 ریکارڈ کی گئی، جو کہ فضائی آلودگی کی شدید سطح کی نشاندہی کرتی ہے، اور شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق، لاہور میں سموگ کی اوسط شرح 362 تک پہنچ چکی ہے، اور شہر کے علامہ اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 589 تک جا پہنچا ہے، جو کہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ پنجاب کے دیگر بڑے شہر جیسے چک جھمرہ، فیصل آباد، رائیونڈ اور ملتان میں بھی فضائی آلودگی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ چک جھمرہ میں ایئر کوالٹی 664 ریکارڈ کی گئی، جو عالمی معیار کے مطابق انتہائی خطرناک ہے۔
حکومت پنجاب نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن میں اینٹی اسموگ گن کا استعمال، پلاستک بیگ پر پابندی اور زگ زیگ ٹیکنالوجی کا نفاذ شامل ہیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک خطاب کے دوران کہا، "فضائی آلودگی کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں تمام طبقات کا تعاون درکار ہے۔”
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ "پنجاب بھر میں سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور شہریوں کو گھروں سے غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔”
عالمی اداروں کے مطابق، اس سطح کی فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں کے مریضوں کے لیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس بحران سے نمٹا جا سکے اور شہریوں کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔




