بین الاقوامی
Trending

افغانستان ‘دہشت گردی کا عالمی مرکز’: عالمی برادری کی شدید تشویش، یورپی یونین کا کابل پر بڑا دباؤ

 

برسلز / نیویارک: بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں افغانستان کی صورتحال پر ایک بار پھر خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ عالمی اداروں کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق افغانستان تیزی سے شدت پسند گروہوں اور پراکسی نیٹ ورکس کی محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
یورپی یونین نے کابل میں موجود عبوری حکومت کو سخت ترین پیغام دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے فوری روکا جائے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ افغانستان میں موجود تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا جائے۔ دہشت گرد تنظیموں کو حاصل ‘محفوظ ٹھکانوں’ اور سہولت کاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
مختلف بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس میں درج ذیل نکات کو اجاگر کیا گیا ہے افغانستان میں القاعدہ، فتنہ الخوارج (TTP) اور دیگر گروہ ایک بار پھر منظم ہو رہے ہیں۔افغان سرزمین سے ہونے والی پراکسی وار کے اثرات پاکستان، وسطی ایشیا اور ایران کی سکیورٹی کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور ڈرون ٹیکنالوجی تک رسائی نے خطے کے لیے خطرات کو دوگنا کر دیا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کا یہ سخت لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل انتظامیہ کے پاس اب وقت کم رہ گیا ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو افغانستان کو درج ذیل نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، عالمی سطح پر مزید سفارتی تنہائی، بین الاقوامی امداد اور اقتصادی اثاثوں کا منجمد ہونا، دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر عالمی طاقتوں کی جانب سے براہِ راست سرجیکل اسٹرائیکس کا امکان۔ یہ واضح ہے کہ اب دنیا صرف زبانی وعدوں پر اکتفا نہیں کرے گی۔ پاکستان کی جانب سے ثبوتوں کی فراہمی کے بعد، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں اب افغانستان کو ایک ‘چیک پوسٹ’ کے طور پر دیکھ رہی ہیں جس کا کنٹرول حاصل کرنا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button